ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / منوہر پاریکر نے بدل ڈالی روایت،اہم تقرریوں میں فوج کی نہیں، وزیر دفاع کی چلے گی

منوہر پاریکر نے بدل ڈالی روایت،اہم تقرریوں میں فوج کی نہیں، وزیر دفاع کی چلے گی

Wed, 10 Aug 2016 21:04:09    S.O. News Service

نئی دہلی،10اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )اب تک چلی آ رہی روایات کو بدلتے ہوئے وزیرِ دفاع منوہر پاریکر اب بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان،ڈپٹی جنرل اور آرمی کمانڈروں کیلئے مقرر کئے جانے والے پرنسپل اسٹاف افسران (پی ایس او)کی تقرری میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔تینوں افواج میں ان سینئر افسران کی تقرری پی ایس او کے طور پر اہم مسائل پرفوج سربراہان کو مشورہ دینے کے لئے کی جاتی ہے۔اب تک وزارت دفاع ان تقرریوں کیلئے فوج سربراہان اور سروس کے ہیڈ کوارٹر سے ملی سفارشات پر ہی کام کرتی تھی لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ اب وزیر دفاع منوہر پاریکر نے سروس کے ہیڈ کوارٹر کو بتا دیا ہے کہ ان کی سفارشات پرغورکیاجائے گا لیکن حتمی فیصلہ وزارت کا ہوگا۔اس کے ساتھ ہی پی ایس او کی تقرری کے لئے کی گئی کچھ سفارشات کو سوالات کے ساتھ واپس بھیج دیا گیا ہے۔ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ بری فوج قیادت کی طرف سے ڈپٹی جنرل کی تقرری کے لئے کی گئی سفارش کو وزیر دفاع نے تسلیم کر لیا ہے لیکن انہوں نے کچھ معاملات میں فوج کے ہیڈ کوارٹر کی سفارشات کو نہیں ماناہے۔وزارت دفاع کے سینئر افسران نے کہاکہ وزیرِ دفاع منوہرپاریکرنے فوجوں سے کہاہے کہ وہ ان تمام افسران کی فہرست وزارت کو بھیجے جو پروموشن کے اہل ہو گئے ہیں، اب تک چلی آ رہی روایت کے مطابق صرف اعلیٰ 3-4 ناموں کو نہیں بھیجاجائے۔اسی معاملے سے منسلک ایک معلومات یہ ہے کہ وزارت دفاع نے اس وقت پونے میں واقع جنوب مغربی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کو ہندوستانی بری فوج کا ڈپٹی جنرل مقرر کر دیا ہے۔موجودہ ڈپٹی جنرل ایم ایم ایس رائے اسی ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔نئے ڈپٹی جرنل کی تقرری کے اعلان میں ہوئی تاخیر کے پیچھے وزارت دفاع اور فوج کے ہیڈکوارٹر کے درمیان ہوئی بحث کو وجہ بتائی جارہی ہے۔


Share: